26 جولائی 2026 - 16:56
مغربی کنارے میں دو مساجد کو نذرِ آتش کرنا منظم جرم اور اسلامی مقدسات پر کھلا حملہ ہے: حماس

غزہ: حماس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے دو مساجد کو نذرِ آتش کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "منظم جرم" اور اسلامی مقدسات پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔ تنظیم نے حملوں کے ذمہ داروں اور ان عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جو اس کے بقول ان جرائم کے لیے ماحول فراہم کر رہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حماس کے رہنما محمود مرداوی نے ایک بیان میں کہا کہ نابلس اور طولکرم کے علاقوں میں دو مساجد کو آگ لگانا مذہبی، اخلاقی اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی آبادکاروں نے دو الگ الگ حملوں میں طولکرم کے جنوب میں واقع گاؤں "کور" کی ایک مسجد اور نابلس کے جنوب میں واقع قصرة بستی میں زیرِ تعمیر مسجد کو نذرِ آتش کر دیا۔

حماس رہنما نے عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلامی مقدس مقامات پر حملوں کے خلاف واضح اور سخت مؤقف اختیار کریں، حملوں میں ملوث افراد کے احتساب اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں۔

محمود مرداوی نے اسرائیلی حکام پر الزام عائد کیا کہ وہ آبادکاروں کو ان حملوں کے لیے تحفظ اور حوصلہ افزائی فراہم کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مساجد، زرعی اراضی اور فلسطینی شہریوں کی املاک پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

فلسطینی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں بھی مقبوضہ علاقوں میں تشدد، غیر قانونی بستیوں کی توسیع، عام شہریوں اور مذہبی مقامات پر حملوں کے تسلسل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ فلسطینی حلقوں کے مطابق یہ اقدامات مغربی کنارے میں دباؤ بڑھانے اور آبادیاتی تبدیلی کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha